ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر میں نے آخری لمحے میں اپنا سر نہ ہلایا ہوتا تو گولی نشانے پر لگتی اور میں آج آپ کے ساتھ نہ ہوتا۔‘
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آپ اس کا ذکر دوبارہ مجھ سے کبھی نہیں سنیں گے کیونکہ یہ بتانا واقعی بہت تکلیف دہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایک زور دار چیخ کی آواز سنی اور محسوس کیا کہ میرے دائیں کان پر کوئی چیز بہت زور سے لگی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ کیا تھا۔ یہ صرف گولی ہو سکتی ہے اور اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے کان پر رکھا اور جب واپس ہٹایا تو میرا ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھا۔ یہ بہت سنگین معاملہ ہے کہ ہم پر حملہ ہوا۔‘
یاد رہے کہ امریکی ریاست پینسلوینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں فائرنگ اس وقت ہوئی جب انھوں نے تقریر شروع ہی کی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریف امیداوار اور امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کے حوالے سے بات کر رہے تھے کہ وہاں متعدد گولیاں چلنے کی آواز آئی۔
اس حملے میں ایک گولی ڈونلڈ ٹرمپ کے کان کو چھو کر نکل گی۔
ایف بی آئی نے حملہ آور کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے طور پر کی تھی، جسے موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔
تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ تھامس میتھیو ایک سیمی آٹومیٹک اے آر 15 رائفل سے لیس تھے اور ان کی فائرنگ سے ڈونلڈ ٹرمپ زخمی ہوئے تھے جبکہ ریلی میں موجود ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھ

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں مشورہ دیا کہ امریکہ پورے ملک میں آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام بنا سکتا ہے، جیسا کہ اسرائیل استعمال کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام تعمیر کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی دشمن ہمارے ملک پر حملہ نہ کر سکے اور یہ عظیم آئرن ڈوم امریکہ میں بنایا جائے گا۔‘
یاد رہے کہ یہ سابق صدر کی طرف سے کوئی نئی تجویز نہیں لیکن فوجی ماہرین نے اس کی ممکنہ لاگت اور حقیقی اثرات کے حوالے سے اس خیال پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
نارتھ امریکن ایرو سپیس ڈیفینس کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل گلین وان ہرک نے گذشتہ ماہ اس خیال کے بارے میں پوچھے جانے پر اے بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ ’آپ پورے امریکہ کا دفاع نہیں کر سکتے۔ یہ غیر حقیقی، مہنگا اور ناقابل حاصل ہے۔‘

No comments:
Post a Comment